امام خامنہ ای: امام خمینی کی عظمت کا اعتراف دوست و دشمن سبھی نے کیا ہے/ بھارتی، افغانی اور ترک شعراء کی رہبر انقلاب سے ملاقات


امام خامنہ ای: امام خمینی کی عظمت کا اعتراف دوست و دشمن سبھی نے کیا ہے/ بھارتی، افغانی اور ترک شعراء کی رہبر انقلاب سے ملاقات

امام خامنہ ای نے گزشتہ شب حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ایران کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے ادیبوں اور شاعروں سمیت مختلف ممالک کے شعراء سے ملاقات کی۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے رہبر معظم کے دفتر اطلاعات و نشریات کے حوالے سے بتایا ہے کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت سعادت کی مناسبت سے ملک کے مختلف نکات سے آئے ہوئے ثقافتی، شاعر،ادیب اور ایلیٹ طبقے کے متعدد حضرات سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں دیگر ممالک بشمول بھارت، افغانستان اور ترکیہ کے شعراء اور ادیب بھی شریک تھے۔

حضرت آیت الله امام خامنه ای نے اس ملاقات میں شاعری کو ایک «قومی سرمایہ» سے تعبیر کیا اور مزید فرمایا: انقلاب کے اوائل ہی سے شاعری کے اغراض و مقاصد کو غیر انقلابی اہداف کا جامہ پہنانے کی کوششیں کی جاتی رہیں اور یہ کوششیں اب بھی اپنا وجود رکھتی ہیں۔ 

آپ نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کو جدید شاعری کے سنہرے دور کے آغاز، اور جوانوں اور شاعروں کو ملکی اہداف کی خدمت میں بصیرت افروز اشعار لکھنے کا خاص محرک قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس قسم کے شعرا کا دائرہ روز بروز وسیع تر ہوتا گیا اور آج  خوش قسمتی سے مذہبی و انقلابی اہداف سے مطابقت رکھنے والی شاعری کا غلبہ ہے اور اس قسم کی شاعری ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

رھبر انقلاب اسلامی نے ملک میں رونما ہونے والے واقعات اور برجستہ علمی شخصیات کے احوال سے متعلق سیر حاصل معلومات کی فراہمی کے میدان میں کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایرانیوں کو اس معاملے میں کاہلی و کوتاہی کا مرتکب جانا اور فرمایا کہ ہمارے امام بزرگوار (امام خمینی) دنیا کی وہ بہترین شخصیت ہیں کہ جن کی عظمت کا اعتراف دوست و دشمن سبھی نے کیا ہے، مگر ابھی تک کتنی کتابیں اس عظیم الشان شخصیت کے بارے میں تالیف کی گئی ہیں؟

آپ نے شام کی جنگ اور مدافعان حرم کی قربانیاں نیز عراق کے واقعات کو سینکڑوں و ہزاروں اشعار لکھنے کا سرچشمہ قرار دیا نیز فرمایا کہ بہت سے لوگ اس حقیقت سے نا آشنا ہیں یا ناقص معلومات کے حامل ہیں کہ امریکہ آخر عراق میں کیا مقاصد رکھتا تھا اور کیسے اس کو وہاں منہ کی کھانی پڑی، لیکن یہ قصہ بہت ہی زیادہ اہم ہے اور وضاحت طلب ہے کہ کس طرح « صدّام کا عراق»، «شهید حکیم کے عراق» میں تبدیل ہوگیا؟

آپ نے فرمایا: پیامبر اکرم(ص) نے اپنے اصحاب میں شامل شاعروں میں سے ایک کو یہ حکم دیا تھا کہ اپنے اشعار میں مشرکین کی مذمت اور ہجو کریں، نیز فرمایا کہ آج بھی تلوار کے رقص جیسی جدید جاہلیت اور ساتھ ہی ساتھ قبائلی جاہلیت، یا سعودی عرب کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق میں شامل کرنا جیسے مسائل ایسے ہیں کہ ان پر سنجیدگی سے بذریعہ شاعری ہجو و مذمت درکار ہے۔

اس ملاقات میں شعرا میں سے 30 شاعروں نے اپنے اشعار رهبر انقلاب اسلامی کے سامنے پڑھے۔

شعرا نے نماز مغرب و عشا، رهبر انقلاب اسلامی کی امامت میں ادا کی اور ان کے ساتھ افطار کی سعادت بھی حاصل کی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی ایران خبریں
اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری