نشان مقاومت  سیدحسن نصراللہ کاخطاب بمناسبت یوم مقاومت و آزادی

نشان مقاومت  سیدحسن نصراللہ کاخطاب بمناسبت یوم مقاومت و آزادی

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے "عید مقاومت" اور جنوبی لبنان کی آزادی کی مناسبت سے خطاب کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے "عید مقاومت" اور جنوبی لبنان کی آزادی کی مناسبت سے قوم سے خطاب کیا جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے؛

رمضان کے مہینے میں آپ کو زیادہ تکلیف دینا نہیں چاہتا یوم القدس  کے موقع پر میں پھر زحمت دونگا خاص کر کہ آپ کو انتخابی کمپئن میں کافی تکلیف دی ہے عالمی یوم القدس کو اس سال خاص اہتمام کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے خاص کر قدس شہر میں جو کچھ حالات پیش آرہے ہیں اور عیسائی و مسلم مقدسات کو لاحق جو خطرات ہیں فلسطینوں کی اپنے گھروں کو واپسی ۔۔۔ لہذا تمام روزہ داروں اور نماز گزاروں سے گذارش ہے کہ وہ یوم القدس میں بھرپور شرکت کریں تمام مسلمانوں کو ماہ رمضان اور اللہ کی مہمانی کے مناسبت سے مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔۔۔یہ مغفرت اور توبہ و تلاوت قرآن اور اللہ کی جانب توجہ اور تزکیہ نفس کا مہینہ ہے اسی طرح یہ یتیموں ضرورتمندوں اور مسکینوں کی دادرسی کا مہینہ ہے ،باہمی بھائی چارگی اور محبت و دوستی کا مہینہ ہے ۔۔ مقاومت اور آزادی کی عید کی مناسبت پربھی آپ سب کو مبارک باد پیش کرتاہوں سب سے پہلے اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں کہ جس نے ہمارے خطے میں ہماری عوام اور مسلمانوں کو یہ فتح عظیم نصیب کی ہماری زبان اس سلسلے میں اللہ کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ شکریہ اداکرنا چاہیے ان مجاہدین اور مقاومین کا جنہوں نے اپنی جوانیاں اس سرزمین کی آزادی کے لئے قربان کردیں کہ جن میں سے بہت  شہید ہوچکے ہیں اور بہت سے ابھی اسی راستے پر موجود ہیں اور وہ فداکارہ زخمی جو ابھی تک اپنے زخموں کی تکلیفوں سے گزر رہے ہیں اسی طرح وہ اسیر جو قید کی صعبتیں سہہ رہے ہیں شہدا کی خاندان ،اسیروں اور زخمیوں کی خاندان ،مختلف علاقے کی عوام دیہاتوں قصبوں کی عوام جنہوں نے مقاومین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر کام کیا فلسطینی مزاحمتی گروہ جنہوں نے تعاون کیا ،شام کی فوج جس نے اُس وقت مدد کی ۔۔ہر وہ کوئی جنہوں نے کسی بھی حوالے سے تعاون کیا ہو۔۔سیاسی مالی عسکری ۔یہاں تک کہ جنہوں نے دعا کی ہو ہم انہیں بھی اس فتح عظیم میں شریک سمجھتے ہیں ۔۔صرف ایران ہی وہ بیرونی ملک تھا جس نے ہماری مدد کی اور ہم اُس کا کھلے الفاظ میں اظہار کرتے ہیں ۔۔ اہم چیز یہ ہے کہ ہم کرامت ،امن اور آزادی کی زندگی گزاریں ۔۔ 1983سے لیکر 2000تک مقاومت کے پاس وسائل انتہائی معمولی قسم کے تھے ،اسلحہ ہو یا پھر مجایدین کی تعداد و تربیت ہو ہر اعتبار سے ہم بہت زیادہ بہتر پوزیشن میں نہیں تھے ۔ 2000سے پہلے ہماری صورتحال ایسی تھی کہ اگر کسی جگہ پر اٹیک کرنا ہوتا تھا تو ہمیں اپنی پوری مسلحانہ توانائی ایک محاذ پر جمع کرنا پڑتی تھی اس قدر کم وسائل کے باجود ہمیں فتح حاصل ہوئی اللہ فتح و کامیابی کو بغیر شرائط کے نہیں عطا کرتا جب دیکھا کہ آپ قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ،آپ مزاحمت کرنے کے لئے آمادہ ہیں اور ڈٹے  رہنے کیلئے تیار ہیں ،اس ذمہ داری کو اٹھاسکتے ہیں ۔۔ آپ نے ذمہ داری اٹھائی ،ہمت دیکھائی تو اللہ نے بھی آپ کی مدد کی سن 2000میں ہماری عوام اور مجاہدین نے ثابت کردیا کہ وہ فتح کے لائق ہیں تو فتح حاصل ہوئی گھروں پر بمباری کے باوجود بچوں کے مارے جانے کے باوجود ثابت کردیا کہ وہ اس کےلائق ہیں وہ شکر گزار ہیں لہذا وہ فتح کے لائق ٹہرے ۔ 33روزہ جنگ کے بعد جب مہاجرت سے واپس آئے کیمپوں میں رہے مشکلات برداشت کیں تو اللہ نے فتح کے لائق اور قابل بنادیا اور ان شااللہ ابھی تک یہ لیاقت موجود ہے ۔۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن جنگ سے ڈرتے بھی نہیں ہیں ۔۔دشمن دھمکیاں دے رہا ہے ۔۔اللہ ہمارے ساتھ ہے او ر اب بھی ہمارے ساتھ ہے ۔۔ہم اللہ کے ساتھ ہیں اللہ پر توکل ہے لہذا جب بات ایسی ہو تو ہم فتح و کامیابی کے لائق ہیں لبنان اور فلسطین میں تحریک مزاحمت کے خلاف امریکی خلیجی محاصرہ اور مزاحمت کو دہشتگردانہ لسٹ میں ڈالنا ۔ ہمیں خلیج تعاون کونسل سعودی عرب سے لیکرامریکہ تک نے اس لسٹ میں ڈالاہے ہم پر ان پابندیوں کا کوئی مالی اثر نہیں ہونے والا، ہمارے پاس ایسی رقمیں نہیں کہ ہم انہیں بینکوں میں رکھیں ۔ یہ صرف نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے یہاں مسئلہ میری اور ہمارےبھائیوں کی  بات  نہیں ہے عوام کی بطور مثال اب کسی عام کمپنی یا تجارتی فرم کو اس لسٹ میں ڈالا جائے تو اس کی تجارتی سرگرمیاں بند ہونگی بعض عام تاجروں کو اس لسٹ میں ڈالا گیا ہے ۔۔ یہ عام لبنانی شہری ہیں اور لبنانی حکومت ان کی ذمہ دار ہے لبنان میں بعض لوگوں کو امریکیوں سے زیادہ امریکی نہیں بننا چاہیے ۔ یورپ اور افریقا میں لبنانی نژاد شہرویوں کو اس لسٹ کے ذریعے نشانہ بنایا ہے ،بہت سے لوگ جن کا حزب اللہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں انہیں لسٹ میں ڈالا گیا ہے بعض لوگ جو یتمیوں کی مدد کررہے ہیں یا کوئی فلاحی رفاحی کام کررہے ہیں انہیں بھی اس سے شکار کیا جارہا ہے یہ مسئلہ کسی ایک دو فرمز یا کمپنیوں تک محدود نہیں لہذا حکومت کو اقدام کرنا چاہیے  ان کے اہداف کیا ہیں ؟

الف: وہ مزاحمت سے وابستہ عوام کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ،لبنان کی عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح کردیا ہے کہ وہ مقاومت کے ساتھ ہے لہذا وہ عوام کو نفسیاتی مالی ۔۔۔نشانہ بنا چاہتے ہیں۔

ب: ہمارےدوستوں کو نشانہ بنانا

ج: مزاحمتی تحریکوں کے مالی ذرایع پر دباو ڈالنا چاہتے ہیں جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر دباو ڈالنا۔

امریکی وزیرخا رجہ نے جو بارہ مطالبات ایران سے کیئے ہیں اس میں سے ایک یہی ہے وہ ایران سے وہ خواہش رکھتے ہیں جو شاہ کے دور کا ایران رکھتا تھا مزاحمت سے وابستہ کسی یتموں کے پروجیکٹ کو یا کسی فلاحی رفاہی امور کے لئے ہونے والی ڈونیشن کو روکنا چاہتے ہیں ۔ ہم امریکی صیہونی ہرقسم کے قبضے کو تسلیم نہیں کرینگے خواہ سیاسی ہو یا ڈیکٹشن یا عسکری ہو مزاحمت نے مشرق وسطی میں ان کے تمام پروجیکٹس کو ناکام بنایا ہے ،جب آپ عملی طور پر اپنی خود مختاری چاہیں گے ۔۔تو ایسا ہی ہوگا ۔۔کل رات لبنان کی فضا سے شام پر حملہ ہوا تو ہماری خود مختاری کہاں ہے ۔۔۔ جب آپ امریکی تسلط کے آگے ڈٹ جاینگے تو ظاہر ہے کہ آپ کا اقتصادی محاصرہ ہوگا ۔ ہمارا ارادہ ،ہمارا عزم و استقامت کو تھامے رہنا ہی ہماری اصل کامیابی ہے میں واضح کردوں کی ان کی یہ کوشش کسی قسم کا کوئی نتیجہ انہیں نہیں دینے والی ۔ ہم نہ ڈرتے ہیں اور نہ جھکتے ہیں ،2000سے پہلے ہمارے وسائل انتہائی محدود تھے لیکن آج ہمارے وسائل بہت بہتر ہیں ۔ سن لو، امریکیوں اور صیہونیوں تم لوگ مزاحمت اور اسکی عوام کے بارے میں انتہائی غلط اندازوں پر کھڑے ہوئے ۔ یہ لوگ صرف مادی نکتہ نظر سے دیکھ رہے ہیں ہر چیز کو پیسوں میں تولتے ہیں ان کے پاس عقیدہ اورحب الوطنی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔۔ یہ اس مزاحمت کے بارے میں سوچتے ہیں جیسے یہ ایران کے کرایہ دارہیں ایران پیسے دیتا ہے اور یہ کام کرتے ہیں ۔ وہ ایسے سوچتے ہیں ۔۔۔یہ لوگ اعلی اہداف رکھتے ہیں ،عقیدہ رکھتے ہیں ،حب الوطنی رکھتے ہیں وہ ایک عقیدہ اور نظریہ کے بنیادپر کھڑے ہیں لہذا بمباری ،تباہی اور محاصروں سے انہیں شکست نہیں دی جاسکتی امریکیوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ عقیدہ ،نظریہ ،وطنیت کے جذبے سے قائم مزاحمت کو ایرانی تنخوادار سمجھتا ہے  حزب اللہ پر پولیسیریو میں مداخلت کا الزام ایک بے بنیاد الزام ہے جسے کسی بھی طور پر وہ ثابت نہیں کرپائے ہیں ۔ہمارا ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ آج اسلامی تحریک مزاحمت ماضی سے زیادہ ہر حوالے سے مضبوط ہے نئی نسل ایک مضبوط نسل ہے ،مزاحمت اپنے عقیدہ ،نظریے اور استقامت میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہے مزاحمتی اہداف میں یہ پابندیاں اور محاصرے کچھ بھی کردار ادانہیں کرسکتے شام کو اس کے دارالحکومت کی مکمل آزادی پر مبارک باد پیش کرتے ہیں امریکی پابندیوں کا لبنان میں حکومت کی تشکیل پر کسی قسم کی کوئی تاثیر نہیں ہے ہم حکومت کی تشکیل میں جلدی چاہتے ہیں کیونکہ یہ ملک کی ضروت ہے عوام کی ضرورت ہے اس میں کوئی دوسری بات نہیں خطے میں جاری صورتحال کو ہم سیاسی اعتبار سے اپنے پلان کے حق میں دیکھتے ہیں ہم حزب ِاَمل کے ساتھ تمام عہدوں کی تقسیم میں باہمی صلح مشورے سے کام لیں گے اور شیعہ مسلک کو ملنے والی وزارت اَمل کی جانب سے کوئی قبول کرے گا ہم اپنا فعال کردار چاہتے ہیں لیکن تمام ایشو زمیں باہمی مشاورت سے کام لیں گے  حزب اللہ کرپشن کیخلاف معرکے کی قیادت کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار ہے ہم ملک کو بنانا چاہتے ہیں لیکن سب کے تعاون سے ،ملک میں کرپشن کیخلاف ایک وسیع جدوجہد کی ضرورت ہے اگر ہم اس میدان میں کامیاب رہے تو یہ ایک بڑی کامیابی کہلائے گی حزب اللہ کرپشن کیخلاف اقدامات کوخاص اہمیت دیتی ہے اور شائد ہم اس سلسلے میں کسی فرد کو تعین کریں ہوسکتا ہے کہ لبنان کی سیاسی جماعتوں میں بہت اختلاف ہو لیکن کرپشن ایسا موضوع ہے کہ جہاں سب کو متفق ہونا چاہیے کہ اسے ختم کردیا جائے  یہ بات واضح ہے کہ اگر ملک اسی انداز سے چلتا رہا تو آگے جاکر دیوالیہ ہوجائے گا ،لہذا کرپشن کو روکنا ہوگا خطے کی صورتحال بحرین ،یمن فلسطین جیسے موضوعات پر آنے والے وقتوں میں تفصیلی گفتگو ہوگی۔ ان شااللہ، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری