طبی معائنے کے حوالے سے پاکستان دوسرا بد ترین ملک


طبی معائنے کے حوالے سے پاکستان دوسرا بد ترین ملک

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نہ صرف صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، بلکہ وہ مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بھی بدترین پوزیشن پر موجود ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں کہ پاکستان میں ڈاکٹرز کی سخت قلت ہے، تاہم ایک حالیہ عالمی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان مریضوں کے طبی معائنے کے حوالے سے دوسرا بدترین ملک ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں 21 کروڑ سے زائد افراد کے لیے سال 2014 کے آخر تک رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار 600 تھی۔

ڈان نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (جے پی ایم اے) کے مطابق پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے طلبہ کے داخلہ لینے کی شرح تو زیادہ ہوتی ہے، لیکن ان طلبہ سے ڈاکٹرز بننے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔

سائنس جرنل بی ایم جے میں شائع ایک مضمون کے مطابق مریضوں کے معائنے کے حوالے سے پاکستان دنیا کے 67 ممالک میں دوسرا بدترین ملک ہے۔

مریضوں کے معائنے کے حوالے سے دنیا کا سب سے بدتر ملک بنگلہ دیش ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو محض 48 سیکنڈز تک ہی دیکھ پاتا ہے۔

ان 48 سیکنڈز میں ڈاکٹر نہ صرف مریض کی بیماری کا اندازہ لگاتا ہے، بلکہ اسے صحت مند ہونے کے لیے دوائیں تجویز کرنے سمیت اسے اب تک کی صورتحال سے بھی آگاہ کرتا ہے۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مریضوں کے معائنے کے حوالے سے دوسرا بدترین ملک پاکستان ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو ایک منٹ 13 سیکنڈز تک دیکھ پاتا ہے۔

یعنی پاکستانی ڈاکٹرز بنگلہ دیشی ڈاکٹرز کے مقابلے اپنے مریضوں کو 63 سیکنڈ اضافی وقت دیتے ہیں۔

اسی طرح 67 ممالک میں مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بھارت تیسرا بدترین ملک ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو 2 منٹ تک دیکھتا ہے۔

یہ حیران کن بات ہے کہ جنوب ایشیائی تعاون تنظیم (سارک)کے تینوں ممبر ممالک مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بدترین ممالک میں شمار ہوئے ہیں۔

اگرچہ تینوں ممالک نے سارک کے ذریعے خطے میں صحت کی سہولیات عام کرنے سے متعلق کمیٹی بھی بنا رکھی ہے، تاہم خطے کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

بی اے جے اوپن جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیٹا کے لیے ماہرین نے 67 ممالک کے ڈاکٹروں کے ریکارڈ کا معائنہ کیا، یہ ریکارڈ 1953 سے 2016 تک کا تھا، اور سروے کے دوران 2 کروڑ 80 لاکھ دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔

سروے سے پتہ چلا کہ مریضوں کے معائنے کے لیے فرسٹ ورلڈ ممالک سرفہرست ہیں۔

سروے میں شامل 67 ممالک میں سب سے زیادہ سویڈن کے ڈاکٹر مریضوں کو زیادہ وقت دیتے ہیں، وہاں اوسطا ایک ڈاکٹر ایک مریض کو 22 منٹ تک دیکھتے ہیں۔

یورپی ملک ناروے میں بھی ڈاکٹرز مریضوں کو 20 منٹ سے زائد وقت تک دیکھتے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ امریکا بھی یورپی ممالک سے پیچھے ہے، وہاں کے ڈاکٹرز اوسطا ایک مریض کو 20 منٹ تک دیکھتے ہیں، جب کہ برطانیہ کی حالت تو امریکا سے بھی بدتر ہے، جہاں ایک مریض کو ڈاکٹر اوسطا 10 منٹ سے کچھ زیادہ وقت دے پاتا ہے۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں ہر سال ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کو زیادہ وقت دینے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکا میں ڈاکٹرز کی جانب سے معائنے کے وقت میں اوسطا سالانہ 12 سیکنڈز اور برطانیہ میں 4 سیکنڈز کا اضافہ ہو رہا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری